SKU: 66676868402

سر آئزک نیوٹن | محبت اور سائنس | پروفیسر طفیل ڈھانہ

Sale price$225.00 Regular price$250.00
Save 10%

Pay in installments of $62.50 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 18 - Jul 23

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

سر آئزک نیوٹن | محبت اور سائنس | پروفیسر طفیل ڈھانہ. "principia" . " " (Misogyny) "principia" . " " Bipolar disorder . . . . 26 . " : " " " .. . . : 30. 01. 2025 at 11: 30 142

سر آئزک نیوٹن ایک تاریخ ساز سائنسدان تھے جن کا شمار تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کلاسیکی میکینکس کے اصولوں کی بنیاد رکھی، کشش ثقل کا قانون پیش کیا، اور حرکت کے تین قوانین بیان کیے۔ طبیعیات کی بنیاد انہی قوانین اور ظابطوں پر ہوئی اور ثابت کیا کہ زمینی اور آسمانی اجسام ایک ہی قوانین کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ نیوٹن کے نظریات نے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھنے کے نظریے کو ختم کر دیا اور سائنسی انقلاب کو تقویت بخشی جو کہ اس کتاب کا حاصل اخذ بھی ہے.

نیوٹن نے کیمبرج یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران یہ ثابت کر کے پوری یونیورسٹی میں کھلبلی مچا دی تھی کے سفید روشنی دراصل قوس قزح کے تمام رنگوں کے ملاپ سے بنتی ہے۔ پروفیسر ڈھانا نے اس کتاب کے دوسرے حصے میں نیوٹن کی کتاب "principia" کا مقدمہ اور اوپر بیان کردہ اصولوں اور عنصروں کو رایل سوسائٹی آف سائنس میں نہایت ہی دلچسپ اور مکالماتی انداز میں پیش کیا ہے.

گو که نیوٹن کی ذاتی زندگی اور محبت کے بارے میں کوئی ایسی تاریخی ثابتی نہیں ملتی کہ اس نے شادی کی ہو یا اس کے کسی رومانوی تعلق کا تذکرہ ہی ملتا ہو ۔ وہ اکثر اپنے خیالات اور تحقیق کی سرگرمیوں میں مصروف رہتا تھا اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم توجہ دیتا تھا۔ نیوٹن کی زندگی میں زیادہ دوست اور ساتھی نہیں تھے، لیکن اس کے قریبی شاگرد اور دوست تھے جن کے ساتھ اس کا تعلق محبت اور احترام پر مبنی ہوتا تھا۔ باقی اس کی زندگی رومانویت سے خالی تھی۔ جیسا کہ اس کتاب میں ایک کردار البرائٹ نیوٹن کے بارے میں کہتا ہے،

"میرے خیال میں وہ عورتوں سے بیزار لڑکا ہے۔"

لیکن نیوٹن عورتوں سے بیزار نہیں تھا۔ عورتوں سے بیزاری (Misogyny) ایک اور بات ہے۔ اسے بس عورتوں سے قربت و نشیب کا شوق نہ تھا اور اس کی وجہ عورتوں سے دشمنی یا بیزاری نہیں بلکہ اس کی شخصی تضادات اور سائنسی تحقیق کا جنون تھا۔

البتہ نیوٹن کی اپنی کشش ثقل کی تحقیق نے اسے جذبات کی شدت سے جوڑ دیا تھا، اس کے لیے انسانی تعلقات اور رشتوں میں کوئی کشش نہیں رہی تھی۔ وہ سماجی تعلقات پر کتابوں کی صحبت کو ترجیح دیتا تھا اور ہر طرح سے تنہائی اور اندرونی خلاء میں رہنے والا فرد تھا۔ اس نے اپنی کتاب "principia" سے ہی شادی کرلی تھی. دوسری طرف اس کا ٹکراؤ "ٹرینٹی کیمبرج یونیورسٹی" کے روایتی نصاب اور تعلیم کی مشق بازی سے ہوتا ہے جو اس پر شدید اثر ڈالتا ہے۔

نیوٹن کی ابتدائی زندگی عدم استحکام کا شکار رہی ہے، اس کے والد اس کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں اور اس کی ماں چھوٹی عمر میں ہی دوسری شادی کر لیتی ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کی ماں کی شفقت اور محبت کی قربت حاصل کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو پاتا، نتیجتاً وہ بچپن میں ہی Bipolar disorder کا شکار ہو جاتا ہے۔ نیوٹن کی زندگی میں تنہائی کا عنصر اس کے بچپن کے وہ واقعات بھی ہیں جنہوں نے اسے تعلقات سے دور کر دیا تھا۔ کائنات کی بناوٹ اس کے رنگ و فریب پر غور و فکر کرنا نیوٹن کا پسندیدہ مشغلہ تھا. نیوٹن کو اسکول کی تعلیم میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہوا کرتی تھی وہ اکثر کھیت کھلیانوں میں گھومتا ہوا نظر آتا تھا. اسی وجہ سے ان کی والدہ نے اس کو اسکول سے نکلوا دیا اور وہ یہ چاہتی تھی کہ یہ ایک کسان بنے. لیکن نیوٹن کے من میں کچھ اور ہی سوار تھا. یے وہ شخص تھا جس نے 26 برس میں سائنس کہ کلاسیکل بیانیہ، مقدس کلیسا کے ساتھ روایتی تدریسی و رسم کو بہی چیلنج کر دیا تھا.

پروفیسر ڈھانا نے اپنی کتاب "سر آئزک نیوٹن: محبت اور سائنس" میں نیوٹن کی ذاتی زندگی اور محبت کی کہانی کے بارے میں لکھا ہے، جو یقیناً افسانوی اور تخلیقی نوعیت کی ہے۔ اگرچہ یہ کتاب تحقیقی، فکری اور افسانوی آتم کتھائی نوعیت کی ہے، لیکن اس میں فکشن کا عنصر بھی شامل ہے۔ جس میں پروفیسر ڈھانا نے یقیناً انتہائی نفاست، جماليات اور وضاحت کے ساتھ ایک سائنسدان کے وجود کی تنہائی اور پیچیدگی کو بیان کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کتاب دو حصوں یعنی نیوٹن کے خیالات و فکر اور محبت میں تقسیم کی گئی ہے، جو ناسٹیلجیا، فلیش بیک اور انٹر ٹیکسچوئلٹی کے امتزاج سے ماضی اور حال کی پرستش کرتی ہوئی آگے بڑہتی ہے اور قاری کو موہ لینے والی منظر نگاری کے ذریعے نیوٹن کے انتہائی ذاتی خیالات اور تصورات سے آگاہ کرتی ہے۔

پروفیسر ڈھانا نے انتہائی خوبصورتی اور افسانوی طریقے سے نیوٹن کی زندگی کے اس خلاء کو ظاہر کرنے اور محبت، دوستی اور احساس کے جذبے سے بھرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ جسے پڑھتے ہوئے استاد غالب کا خیال ذہن میں آتا ہے...

"یوں ہوتا تو کیا ہوتا..."

پر ایسا نہ ہوا..

گرتے ہوئے سیب نے کیا ہی شک و شبہات و سوالات اٹھائے کے سائنس کی دنیا کی کایا ہی پلٹ گئی. پروفیسر طفیل ڈہانا کی یہ کتاب بھی اسی سیب کی طرح خیال و افکار و شعور پہ گری ہے جس نے عجب لطف و سوز سے گداز کردیا ہے.

سر آئزک نیوٹن: محبت اور سائنس

پروفیسر طفیل ڈھانا

نور جونیجو

30.01.2025 at 11:30

صفحات 142

 

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 66676868402

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.1 ★★★★★
Based on 18 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
K
Verified Purchase
Kimberly G
Cuba, US
★★★★★ 5
delightful read
Format: Kindle
What a delightful read. The characters are awesome, the plot was so good, I loved it. I was intrigued and it kept me wanting more. Told in multiple pov, the book sucks you in and doesn’t let go. I cannot wait to read the next book.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 30, 2025
K
Verified Purchase
Kimberly B
Fort Morgan, US
★★★★★ 4
not bad
Format: Kindle
I loved the plot of this book. The characters just didn’t have a lot of depth. The connections and “love” just weren’t communicated very well in the writing. The author didn’t write the sweet psycho trope very well at all either. Lachlan was just a mess of a character.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on November 17, 2023
C
Verified Purchase
Carmen Alicea
Port Orchard, US
★★★★★ 5
A Beta Worth Rooting For
Format: Kindle
In Spare, Violet Fox flips the omegaverse on its head, giving us a Beta heroine determined to make her mark. Joining the Beta Trials to support her sick father, she's thrown into a pack that doesn't want her, especially the possessive Alphas. But here's the twist: their sweet Omega turns out to be her scent match. Cue the angst, forbidden tension, and a slow-burn romance that will make your heart ache in the best way. Violet Fox delivers an emotional, refreshing take on the genre, proving Betas aren't "spares." They're stars.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 10, 2025
C
Verified Purchase
C. Hunter
Grantham, US
★★★★★ 5
Beta, Alpha, Omega oh my!
Format: Kindle
Omegas are precious and given to Alphas & their packs... but the Betas want in too. To this end, the Beta government is rolling out its trial of assigning a Beta to each Alpha-Omega pack. But forcing a Beta into a pack where they are not wanted will not end well... Of course, no one expected the Omega to fall for the assigned Beta. Great read and cliffhanger
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 15, 2025
B
Verified Purchase
B. Stubby
San Leandro, US
★★★★★ 3
A familiar story, just with…..less.
Format: Kindle
So, as other reviewers make clear, this is very similar to Pack Darling and The Beta. It’s much closer aligned with The Beta, in plot and maybe more like Pack Darling with characters. That being said, I don’t hate this…..but it wasn’t great either. It’s both books mentioned but just….less. Less angst, less emotion, less feeling. The plot feels very half fleshed out, and the “bad guy” feels underwhelming. I didn’t really feel any real emotions from and of the male leads, except maybe Oliver. The others fell sorta flat for me. And Mika makes herself out to be this big bad ass straight outta training and then we never see it from here again with the one fitting room incident as the exception. SPOILER: The whole, “Oh, I’m actually probably an Omega, but I don’t wanna be but I do actually wanna be but no one can ever know my secret that I do nothing to hide “ thing fell so flat. She never commutes to believing she was secretly an omega, but also mentions her “secret” a lot. It just felt so manufactured. I’m intrigued enough to read part 2 and see how the author closes everything out, but this is not one I’ll recommend or ever come back to.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 13, 2024

recommand products